اگر آپ صحت مند رہناچاہتے ہیں تو ان کھانوں کو ھرگزنہ کھائیں

Health Tips

اگر آپ صحت مند رہناچاہتے ہیں تو ان کھانوں کو ھرگزنہ کھائیں
آج کل ہماری زندگی اتنی مصروف ہو گئی ہے کہ اس مصروف زندگی میں ہم اپنی غذا کا بھی خیال نہیں رکھتے ہیں اللہ تعالی کی خاص عنایت حاصل ہے پاکستان کو کہ یہاں ہمیں صحت مند غذائیں کھانے کو ملتی ہیں لیکن ہماری تناؤ سے بھری اس مصروف زندگی میں ہم یہ صحت مند غذائیں کھانا بھول گئے ہیں آج کل ہمیں بازار سے جو کچھ بھی ریڈیمیٹ بنا ملتا ہے ہم بغیر سوچے سمجھے وہ کھا لیتے ہیں جو کہ ہماری صحت کے لیے بہت نقصان دہ ہیں لیکن


ہم اپنی اس مصروف زندگی میں ایسی غذائیں کھانے کے شوقین ہوگئے ہیں کیونکہ ان میں مرچ مسالے زیادہ ہوتے ہیں اور ان میں کھٹاس زیادہ ہوتی ہے مرچ مصالحے اور کھٹائی کا زیادہ ہونے کی وجہ سے یہ ہمیں کھانے میں بہت مزیدار لگتے ہیں جس کو ہم شوق سےکھاتے ہیں ان بازار کی بنی کھانے کی چیزوں نے ہماری زندگی میں ایک اہم مقام حاصل کر لیا ہے لیکن یہ ہمارے صحت کے لیے بہت نقصان دہ ہیں ان کو کھانے سے ہمیں طرح طرح کی بیماریاں لگتی ہیں جیسا کہ سب سے زیادہ آجکل ذیابطیس کی بیماری کینسر اور موٹاپے کی بیماری ہے۔ آپ خود اپنے اردگرد کے ماحول میں چیک کر لیں کہ ہمارے اردگرد کے لوگوں کو آجکل ذیابطیس موٹاپا اور کینسر کی بیماریاں بہت زیادہ لگنی شروع ہوگئی ہیں ان خطرناک بیماریوں کے لگنے کی سب سے بڑی وجہ ہماری غذا پر ہمارا کنٹرول نہ ہونا ہے.

برطانوی طبی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے بچے جو اپنے گھر کا کھانا نہیں کھاتے ہیں وہ ان بچوں کی نسبت زیادہ صحت مندبھی نہیں ہوتے ہیں جو کہ گھر کا کھانا کھاتے ہیںاکیسویں صدی کی اس تیز رفتار زندگی میں سب ہی لوگوں کو وقت کی کمی کا سامنا ہے ان میں ایسے والدین بھی شامل ہیں جن کے لیے بازاروں میں آسانی سے دستیاب بچوں کے کھانے پینے کی اشیاء اور تیار شدہ فروزن پکوان گویا کسی نعمت سے کم نہیں ہوتے ہیںجٹ پٹ مائکروویو میں تیار ہو جانے والے یہ کھانے بچوں کی بھی بے حد مرغوب غذا بن چکے ہیں لہذا ہر مہینے ایک اچھی خاصی رقم خرچ کرنے کے بعد بھی خاتون خانہ کو یہ گھاٹے کا سودا معلوم نہیں ہوتا ہےبچوں میں فاسٹ فوڈ کھانے کی عادت اتنی پختہ ہوچکی ہے کہ اب انھیں گھر کا کھانا پسند نہیں آتا ہے ایسے میں والدین کے پاس بچوں کی ضد پوری کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا ہےلیکن ہر بار اپنے بچے کی فرمائش پر اسے پیزا برگر اور چپس کھلاتے ہوئے کیا کبھی ہمیں یہ خیال آیا ہے کہ ہم اس کے ساتھ بھلائی نہیں کر رہے ہیں بلکہ ہم اس طرح اسے گھر کے کھانے سے مزید دور کرتے جا رہے ہیں

(Visited 7 times, 1 visits today)
Spread the love

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *